Bahr-e-deedar mushtaaq hai har nazar, dono aalam ke Sarkar aajaiye

بہرِ دیدار مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکارآجائیے چاندنی رات ہے اور پچھلا پہر دونوں عالم کے سرکار آجائیے سدرۃ المنتہیٰ، عرش وباغِ ارم ہر جگہ پڑچکے ہیں نشانِ قدم اب تو اک بار اپنے غلاموں کے گھر دونوں عالم کے سرکار آجائیے شامِ امید کا اب سویرا ہوا شہرِ طیبہ نگاہوں کا … Read more