جب گنبدِ خضریٰ پہ وہ پہلی نظر گئ
آنکھوں کے راستے میرے دل میں اُتر گئی
برسی تھی اس قدر کہ نہا سا گیا ادھر
وہ بارش کرم میرے داماں کو بھر گئی
جوکہہ سکا نہ لب سےملی وہ مرادیں بھی
میرے سکوت پر بھی شہا کی نظر گئی
مر کر بھی نہ مروں گامیں اللہ کی قسم
یہ جان ان کی یاد میں میری اگر گئی
دل بھی ہےشاد شاد طبیعت ہے پُر بہار
لگتا ہے آج میری مدینے خبر گئی
طیبہ سے لوٹنا کسی عاشق سے پوچھیئے
ایسا لگےکہ روح بدن سے گزر گئی
آواز عبید تیری با فیضانِ نعت ہی
سینوں میں عاشقانِ نبی کے اتر گئیہ